عدالت کی جانب سے اورنگی ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے کردار کو خراجِ تحسین۔
حقیقی مالکان کو انصاف دلانے کی کوششوں کا اعتراف
کراچی ( ) بلدیہ عظمیٰ کراچی نے عوامی وسائل کے تحفظ اور حقیقی مالکان کو انصاف دلانے کے لیے اپنی مسلسل کاوشوں میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا ہے، معزز عدالت نے اورنگی ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے کردار کو ان کے پیشہ ورانہ عزم کے باعث سراہا ہے، جنہوں نے جعلی الاٹمنٹس اور دستاویزات میں جعلسازی سے متعلق مقدمات کو بھرپور انداز میں آگے بڑھایا،گزشتہ چند ماہ کے دوران کے ایم سی نے اورنگی ٹاؤن شپ میں 500 سے زائد غیرقانونی طور پر الاٹ شدہ پلاٹوں کی منسوخی کا عمل شروع کیا۔ یہ پلاٹ برسوں سے جعلسازی اور غیر قانونی ذرائع کے ذریعے الاٹ کیے گئے تھے، جس سے حقیقی مالکان اپنے جائز حقوق سے محروم رہے۔
مسلسل فالو اپ، عدالتی کارروائیوں اور مستند دستاویزی شواہد کی بنیاد پر کے ایم سی نے ایسی الاٹمنٹس کی منسوخی کو یقینی بنایا اور متاثرہ شہریوں کو انصاف دلایا،جعلسازی اور سرکاری دستاویزات میں ردو بدل سے متعلق ایک اہم فوجداری مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے اورنگی ٹاؤن شپ پروجیکٹ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور لگن کو خصوصی طور پر سراہا۔ معزز عدالت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی شفاف اور مستقل کوششوں کے نتیجے میں مقدمے کو منصفانہ اور بروقت فیصلے تک پہنچایا گیا، جس سے اصل مالکان کو ان کا حق واپس ملا،اس موقع پر کے ایم سی کے ترجمان نے کہاکہ معزز عدلیہ کی یہ پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے
کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے وژن کے مطابق کے ایم سی میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ کئی دہائیوں سے غیرقانونی الاٹمنٹس اور زمینوں کے اسکینڈلز نے عوام کے بلدیاتی اداروں پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ آج فعال اقدامات، زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن اور سخت نگرانی کے ذریعے کے ایم سی بدعنوانی کے خاتمے اور نظام میں شفافیت کی بحالی پر عمل پیرا ہے، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان نے کہا کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر کے کردار کا یہ اعتراف اس امر کا مظہر ہے
کہ کے ایم سی کی قانونی اور انتظامی ٹیمیں نہ صرف شہر کے وسائل کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں بلکہ ان شہریوں کے ساتھ کھڑی ہیں جو برسوں سے انصاف کے منتظر تھے،یہ اقدام کے ایم سی کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت کراچی میں زمینوں کے انتظام میں شفافیت، جوابدہی اور دیانتداری کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ جعلی الاٹمنٹس کی کامیاب منسوخی اور عدالت کی جانب سے کے ایم سی کی کوششوں کا اعتراف اس بات کی نوید ہے کہ اب زمینوں کے حقوق کو جعلسازی اور استحصال سے محفوظ رکھا جائے گا۔