سی او او ،متحدہ فرنٹ سی بی اےآمنے سامنے

متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) کے اعلیٰ سطحی وفد نے چیئرمین و انچارج ارشاد خان کی قیادت میں ایم ڈی کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی سے اہم ملاقات

کراچی…...متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) کے اعلیٰ سطحی وفد نے چیئرمین و انچارج ارشاد خان کی قیادت میں ایم ڈی کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی سے اہم ملاقات

وفد میں سی بی اے کے چیئرمین نے ارشاد خان کے ساتھ ، ابکار ورکرز یونین کے چیئرمین ۔ عبدالرشید، مزدور یونین کے چیئرمین ایوب خان، سی بی اے کی طرف سے جنرل سیکریٹری وسیم ابراہیم، سینئر نائب صدر و جوائنٹ انچارج جمیل سوداگر، جوائنٹ انچارج ندیم یوسف اور جوائنٹ انچارج انور حبیب شامل تھے۔

ادارے کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی کی سربراہی سی او او اسداللہ کررہے تھے ۔ ان کے ہمراہ مذاکراتی کمیٹی کے ارکان میں سی ایف او عمار احمد ڈی ایم ایس فیصل قریشی ،سی ایچ آر او نیئر بھی موجود تھے۔

مذاکرات میں انتظامیہ کی جانب سے انشورنس کمپنی کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا گیا، جس پر متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) اور اتحادی یونینز نے شدید تحفظات اور سخت مخالفت کا اظہار کیا۔یونینز کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ میڈیکل انشورنس کمپنی کو دینے سے پہلے متحدہ ورکرز فرنٹ سی بی اے اعتماد میں لینا چاہیے تھا

سی بی اے نے بتایا سیرہ ایکٹ کے تحت، سی بی اے سے لازمی مشاورت کی جانی چاہیے تھی، جو کہ نہیں کی گئی، اور یہ عمل قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔ مزید یہ کہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ انشورنس کمپنی کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی مکمل تفصیلات اور ایگریمنٹ کی کاپی فوری طور پر فراہم کی جائے

متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) نے واضح کیا کہ وہ اپنی اتحادی یونینز کے ساتھ مل کر اس معاہدے کا مکمل جائزہ لے گی، جس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گااس دوران یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ملازمین کو بدستور پرانے طریقہ کار کے مطابق میڈیکل سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ کسی قسم کی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔

یونینز نے میڈیکل سہولیات کو انشورنس پالیسی کے تحت منتقل کرنے کے فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہےاور خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں متحدہ ورکرز فرنٹ (سی بی اے) اور اس کی اتحادی یونینز نے مؤقف کو نظرانداز کیا گیا تو بھرپور احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا، جس میں تالا بندی، قلم چھوڑ ہڑتال اور دیگر آپشنز شامل ہوں گے۔ ساتھ ہی اس معاملے پر قانونی کارروائی کے طور پر عدالت سے بھی رجوع کیا جا رہا ہےملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں