سینکڑوں ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ عوام پر بھاری بوجھ سرکاری مفت پیٹرول سہولت فوری ختم کی جائے، الیکٹرک وہیکلز، سولر اور ونڈ انرجی کو ترجیح دی جائے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو شفاف اور عوام کے سامنے واضح کیا جائے الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے ان پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو مکمل طور پر ختم (زیرو ڈیوٹی) کیا جائے

جب ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکمران طبقہ خود قربانی دے

کراچی ……. کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کو کب اقبال نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ عوام پر بلاجواز بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے

انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ضرور آیا ہے، تاہم دنیا کے کئی بڑے ممالک جیسے چین، بھارت اور جاپان اپنی ضروریات کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے راستے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ان ممالک نے فوری طور پر عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے صورتحال کا محتاط جائزہ لیا ہے۔

کوکب اقبال نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھی تقریباً 28 دن کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے جو پہلے سے خریدی گئی قیمتوں پر دستیاب ہے۔ ایسے حالات میں فی لیٹر قیمت میں بڑا اضافہ کرنا عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اگر موجودہ اضافے کے اثرات کا تخمینہ لگایا جائے تو اس سے قومی سطح پر سینکڑوں ارب روپے کا اضافی بوجھ عوام پر منتقل ہو جاتا ہے، جو کسی صورت مناسب نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عالمی حالات کو جواز بنا کر عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے داخلی اصلاحات پر توجہ دے اور پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں غیر ضروری سرکاری اخراجات کو فوری طور پر کم کرے۔

چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے شدید مطالبہ کیا کہ:• تمام سرکاری اداروں، افسران اور مراعات یافتہ طبقات کو دی جانے والی مفت پیٹرول کی سہولت فوری طور پر ختم کی جائے۔حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے پیٹرولیم کوٹہ اور سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی لگائی جائے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو شفاف اور عوام کے سامنے واضح کیا جائے۔

کوکب اقبال نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کو مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل توانائی کے ذرائع کو فوری ترجیح دینی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ الیکٹرک وہیکلز کے فروغ کے لیے ان پر عائد تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو مکمل طور پر ختم (زیرو ڈیوٹی) کیا جائے تاکہ عوام سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی طرف راغب ہو سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سولر انرجی کو قومی سطح پر ٹاپ ترجیح دی جائے اور سولر پینلز، انورٹرز اور متعلقہ آلات کو عوام کے لیے مکمل طور پر ڈیوٹی فری قرار دیا جائے، اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوام اور صنعتوں کو سولر توانائی کے استعمال کے لیے خصوصی مراعات اور سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔

کوکب اقبال نے کہا کہ پاکستان میں ونڈ انرجی کے متعدد منصوبے پہلے ہی قائم ہیں اور ان کی استعداد کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کی جا سکے اور پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے حکمران طبقہ خود قربانی دے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ریلیف فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر فوری نظرِثانی کی جائے اور متبادل توانائی کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے

اپنا تبصرہ لکھیں