پاک بھارت کشیدگی ، میڈیا اور سیا ست
تحریر: عقیل اختر
برصغیر کی سیاست کو اگر گہرائی سے پڑھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ یہاں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ذہنوں کے اندر بھی لڑی جاتی ہیں، اور اکثر ذہنی جنگیں ہی اصل فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی بھی محض توپوں اور گولیوں کی کہانی نہیں بلکہ بیانیوں، خوف، میڈیا پروپیگنڈا اور طاقت کی سیاست کا ایسا جال ہے جس نے دونوں ملکوں کی جمہوریت، معیشت اور سماج کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان میں جب بھی کوئی آرمی چیف غیر معمولی طاقت حاصل کرتا ہے تو اس کے پیچھے صرف ادارہ جاتی قوت نہیں ہوتی بلکہ وہ خوف ہوتا ہے جو برسوں سے قوم کے ذہن میں بٹھایا گیا ہے کہ دشمن ہر وقت حملے کے لیے تیار بیٹھا ہے، اس لیے ملک کو ایک سخت گیر اور طاقتور محافظ کی ضرورت ہے۔ یہی سوچ رفتہ رفتہ آرمی چیف کو ایک سرکاری عہدیدار کے بجائے قومی ہیرو میں بدل دیتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے جمہوریت کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہے۔قیامِ پاکستان کے فوراً بعد کشمیر کا تنازع دونوں ریاستوں کے تعلقات پر ایسا سایہ بن کر چھا گیا کہ امن کبھی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکا۔ کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ قومی وقار، شناخت اور سیاست کا استعارہ بن گیاہے۔ بھارت اسے اپنا اندرونی معاملہ قرار دیتا رہا اور مذاکرات سے گریز کرتا رہا،

جبکہ پاکستان اسے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ کہتا رہا۔ اس ضد نے دونوں ممالک کو مستقل کشیدگی میں رکھا اور یہی کشیدگی پاکستان کے اندر فوجی اداروں کے لیے جواز بنتی گئی۔ جب بھی سرحد پر گولیاں چلتی ہیں یا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوراً یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ ملک حالتِ جنگ میں ہے، لہٰذا اب جمہوری بحث، سیاسی اختلاف اور شہری آزادیوں کا وقت نہیں بلکہ خاموشی اور یکجہتی کا وقت ہے۔ یوں آہستہ آہستہ طاقت ایک ہاتھ میں سمٹتی جاتی ہے۔اس پوری کہانی میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم اور بعض اوقات خطرناک رہا ہے۔ پاکستان کا میڈیا ہو یا بھارت کا، دونوں طرف اکثر حب الوطنی کو سنسنی خیزی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ ٹاک شوز میں چیخ و پکار، جنگی نغمے، بریکنگ نیوز کی بارش اور دشمن کو مکمل شیطان بنا کر پیش کرنا ریٹنگ تو بڑھاتا ہے مگر عقل کم کرتا ہے۔ پاکستانی چینلز اکثر فوجی قیادت کو نجات دہندہ کے طور پر دکھاتے ہیں جبکہ بھارتی چینلز اپنے رہنماؤں اور فوج کو ناقابلِ شکست طاقت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دونوں ملکوں کے عوام کے ذہنوں میں نفرت کی دیوار مزید اونچی ہو جاتی ہے۔ میڈیا اگر پل بننے کے بجائے مورچہ بن جائے تو پھر امن کی آواز دب جاتی ہے اور جنگ کا شور غالب آ جاتا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جنگی بیانیہ ہمیشہ طاقتور حلقوں کے حق میں جاتا ہے کیونکہ خوف زدہ معاشرہ آزادی کے بجائے تحفظ مانگتا ہے۔بھارت کے رویے کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہے کہ اس نے خطے میں اپنی معاشی اور عسکری برتری کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے۔

وہ پاکستان کو اکثر عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، مذاکرات کو مشروط رکھتا ہے اور کشمیر کے مسئلے کو دو طرفہ تنازع ماننے کے بجائے داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اس پالیسی کا براہِ راست اثر پاکستان پر یہ پڑتا ہے کہ یہاں دفاعی اخراجات بڑھتے ہیں، خارجہ پالیسی دفاعی سوچ کے گرد گھومتی ہے اور معاشی ترقی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ جب ریاست کا بڑا حصہ بجٹ کا سرحدوں پر خرچ ہو تو اسکول، اسپتال اور روزگار کے منصوبے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یوں دشمنی کا بوجھ اصل میں عوام اٹھاتے ہیں جبکہ سیاسی اور عسکری اشرافیہ اپنی طاقت مضبوط کرتی رہتی ہے۔پاکستان کے اندر اس صورت حال کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہر سیاسی بحران کے وقت نگاہیں پارلیمنٹ کے بجائے جی ایچ کیو کی طرف اٹھتی ہیں۔ جب سیاستدان آپس میں الجھتے ہیں، کرپشن کے الزامات لگتے ہیں یا حکومت کمزور ہوتی ہے تو فوراً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اب کوئی مضبوط ہاتھ ہی ملک کو سنبھال سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک آرمی چیف کو غیر معمولی حیثیت ملتی ہے۔ پھر میڈیا اسے قومی محافظ کے طور پر پیش کرتا ہے، عوام وقتی طور پر سکھ کا سانس لیتی ہے اور جمہوریت مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فرد، چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، آئین اور عوامی اختیار کا متبادل نہیں بن سکتا۔موجودہ پاک بھارت تعلقات بھی اسی پرانے چکر کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی سفارتی بیان بازی، کبھی سرحدی جھڑپیں، کبھی الزام تراشی اور کبھی محدود رابطے؛ گویا مکمل جنگ بھی نہیں اور مکمل امن بھی نہیں۔ یہ درمیانی کیفیت سب سے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں خوف زندہ رہتا ہے اور امن کی امید کمزور۔ ایسی فضا میں پاکستان کے اندر عسکری بیانیہ مضبوط اور سیاسی آواز کمزور رہتی ہے۔

اگر بھارت سنجیدگی سے مذاکرات کی میز پر آئے، کشمیر سمیت تمام متنازع امور پر بات چیت کرے، تجارت اور عوامی روابط بحال ہوں اور سرحدی کشیدگی کم ہو تو پاکستان کی اندرونی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ دفاعی ہنگامی کیفیت ختم ہوگی تو فوجی مداخلت کا جواز خود بخود کم ہو جائے گا، میڈیا بھی جنگی نعروں کے بجائے معاشی اور سماجی مسائل پر بات کرنے لگے گا اور عوام کی توجہ روٹی، روزگار اور تعلیم کی طرف مبذول ہوگی۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی اندرونی کمزوریوں کا اعتراف بھی کرنا ہوگا۔ اگر ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف بھارت کو ٹھہرا دیں تو یہ خود فریبی ہوگی۔ کمزور جمہوریت، ناقص گورننس، بدعنوانی اور اداروں کا عدم توازن بھی اتنے ہی بڑے مسائل ہیں۔ جب تک ہم اپنے سیاسی نظام کو مضبوط نہیں بنائیں گے، تب تک کوئی نہ کوئی طاقتور ادارہ خلا کو پُر کرتا رہے گا۔ امن کا مطلب صرف سرحد پر خاموشی نہیں بلکہ اندرونی استحکام بھی ہے۔
مضبوط پارلیمنٹ، آزاد عدلیہ، ذمہ دار میڈیا اور باشعور عوام ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی غیر منتخب طاقت کو حد سے تجاوز نہیں کرنے دیتے۔ ہم ایک ایسی ریاست بنانا چاہتے ہیں جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوں یا ایسی جمہوریت جہاں عوام کی رائے حتمی ہو۔ مستقل دشمنی نے ہمیں خوف کا عادی بنا دیا ہے اور خوف ہمیشہ طاقتور شخصیات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ہم واقعی اس دائرے کو توڑنا چاہتے ہیں تو ہمیں امن کو ترجیح دینا ہوگی، بھارت سے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا ہوگا اور اپنے اندر جمہوری اقدار کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ بندوق وقتی تحفظ دے سکتی ہے، مگر مستقل استحکام صرف آئین، مکالمے اور عوامی شعور سے آتا ہے۔ جب یہ شعور بیدار ہوگا تو نہ میڈیا کسی کو مصنوعی ہیرو بنا سکے گا اور نہ کوئی طاقتور فرد خود کو قوم کا واحد نجات دہندہ کہہ سکے گا، تب اصل طاقت عوام کے ہاتھ میں ہوگی اور یہی کسی بھی آزاد اور باوقار ریاست کی پہچان ہے