ایم کیو ایم پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی کی مرکزی شاہراؤں کی ٹوٹ پھوٹ اور سندھ حکومت کی نمائشی سیاست پر کڑی تنقید
نام نہاد مقامی اور صوبائی حکومت کی کارکردگی صرف ان گڑھوں تک محدود ہے جو ہر شاہراہ پر موجود ہیں اور میڈ ان سندھ گورنمنٹ کا اصل اشتہار ہیں، متحدہ اراکینِ سندھ اسمبلی
جب عالمی اداروں کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے تو صوبائی خزانہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ اراکینِ سندھ اسمبلی ایم کیو ایم
کراچی ۔۔۔…….. متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مرکزی شاہراؤں کی ٹوٹ پھوٹ اور سندھ حکومت کی نمائشی سیاست پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والے منصوبوں پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے، مرکز بہادر آباد سے جاری کردہ متحدہ اراکینِ اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ کراچی کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر سندھ حکومت کے اپنے بجٹ سے نہیں بلکہ بین الاقوامی اداروں سے لئے گئے قرضوں اور گرانٹس کے مرہونِ منت ہے، قرض کی پیالی اور اپنی واہ واہ کے مصداق سندھ میں یہ نظام چل رہا ہے، ملک کو پالنے والے شہر کے ساتھ یہ کتنی ستم ظریفی ہے کہ کام عالمی بینک اور ایشین بینک کے پیسوں سے ہو رہا ہے
جس کا بوجھ بھی بالآخر اسی عوام نے مزید ٹیکس کی صورت میں اتارنا ہے لیکن سندھ حکومت کے وزراء اس پر اپنے نام کی تختیاں لگا کر ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے یہ ان کا ذاتی کارنامہ ہو, متحدہ اراکین نے سوال اٹھایا کہ کراچی سے جمع ہونے والے اربوں روپے کے ٹیکس اور سندھ حکومت کا اپنا سالانہ ترقیاتی بجٹ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر مرکزی شاہراؤں کے چند کلومیٹر کے لئے بھی عالمی اداروں کا سہارا لینا پڑتا ہے تو صوبائی خزانہ کس کی جیب میں جا رہا ہے؟ حق پرست اراکین نے مزید کہا کہ حکومت کاغذی شیر بننے کے بجائے ان منصوبوں کی شفافیت پر توجہ دے، عالمی اداروں کے فنڈز سے بننے والی سڑکوں پر تختیاں لگانے کی دوڑ تو لگی ہوئی ہے لیکن ان منصوبوں میں ہونے والی تاخیر اور معیار پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے
نام نہاد مقامی اور سندھ حکومت کی اپنی کارکردگی صرف ان گڑھوں تک محدود ہے جو ہر شاہراہ پر موجود ہیں اور میڈ ان سندھ گورنمنٹ کا اصل اشتہار ہیں، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ عالمی بینکوں سے ملنے والے فنڈز کا آڈٹ کیا جائے اور عوام کو بتایا جائے کہ ان اداروں سے لی گئی رقم کا کتنا حصہ واقعی زمین پر لگا اور کتنا کمیشن مافیا کی نذر ہو گیا انہوں نے واضح کیا کہ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ صرف رنگ و روغن اور تختیوں سے مطمئن نہیں ہوں گے انہیں معیاری اور پائیدار انفراسٹرکچر چاہیئے