پاکستان: امن کا سفیر — ایک تاریخی سفارتی کامیابی
تحریر: رضوان احمد فکری
دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی تھی، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی۔ ایسے نازک حالات میں پاکستان نے ایک ذمہ دار، باوقار اور امن پسند ریاست کے طور پر اپنا تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن بنائی—جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔
یہ کامیابی کسی ایک فرد یا ادارے کی نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف نے نہایت سنجیدگی اور تدبر کے ساتھ سفارتی محاذ پر قیادت کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کا استعمال نہیں بلکہ مکالمہ اور برداشت ہی مسائل کا حل ہے۔
اسی طرح عمران خان کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے، جنہوں نے ماضی میں پاکستان کے امن کے بیانیے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا اور آج بھی ان کی سوچ اس قومی مؤقف میں جھلکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعود منیر جیسے سنجیدہ اور فعال کرداروں نے بھی پسِ پردہ سفارتکاری میں اہم خدمات انجام دیں، جو لائقِ تحسین ہیں۔
پاکستان کا یہ کردار اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ ہمارا ملک صرف ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے، جو امن، استحکام اور عالمی بھائی چارے کی علمبردار ہے۔ دنیا کو آج ایسے ہی ممالک کی ضرورت ہے جو تنازعات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی کوشش کریں۔
دو ہفتوں کی یہ جنگ بندی اگرچہ عارضی ہے، لیکن یہ ایک بڑی پیش رفت ہے جو مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کا بھی ایک اہم ستون ہے۔
یہ وقت ہے کہ عالمی برادری پاکستان کے اس مثبت کردار کو تسلیم کرے اور اسے مزید مضبوط بنانے میں تعاون کرے۔ کیونکہ ایک مستحکم اور امن پسند پاکستان ہی ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی ضمانت بن سکتا ہے