تحریک عدم اعتماد :سیف الدین ایڈوکیٹ

مرتضیٰ وہاب کراچی کے لیے مصیبت ٗ 5سالہ کارکردگی صفر ٗتحریک عدم اعتماد ناگزیر ٗسیف الدین ایڈوکیٹ
کراچی مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، حکومتی محکموں میں نااہلی و کرپشن عروج پر ہے اور من پسند لوگوں کو ٹھیکے دیے جارہے ہیں،پریس کانفرنس
چند دن قبل بارش ہوئی، شہر کی ابتر صورتحال نے سندھ حکومت اور قابض میئر کو ایک بارپھر بے نقاب کردیا،اپوزیشن لیڈر کے ایم سی
قابض میئر جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کی کارکردگی سے خوف زدہ نہ ہوں پیپلزپارٹی کے ٹاؤنزکی حالت بہتر بنائیں

کراچی ……. اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ قابض میئر مرتضی وہاب کراچی کے لیے مصیبت بن گئے ہیں،دوسال بطور ایڈمنسٹریٹر اور 3سال قابض میئر ان کی 5سالہ کارکردگی صفر ہے۔اربوں روپے کے ٹیکسز دے کر بھی کراچی مسائل کا گڑھ بنا ہوا ہے، حکومتی محکموں میں نااہلی و کرپشن عروج پر ہے اور من پسند لوگوں کو ٹھیکے دیے جارہے ہیں،کنٹریکٹر ایسوسی ایشن مسلسل خطوط لکھ رہی ہے لیکن کرپشن اور اقرباپروری جاری ہے،نیب نے نوٹس تو جاری کیا لیکن تاحال کارروائی نہیں ہوئی، مئیر کراچی کے قریب ترین لوگ کرپشن کے اس دھندے میں شامل ہیں، شہر بھر میں ڈیجیٹل اسٹیمر کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں، کنٹریکٹ، ٹینڈر کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں، اسی کرپشن اور نااہلی پر حافظ نعیم الرحمن نے عدم اعتماد تحریک لانے کی ہدایت کی ہے، سٹی کونسل میں جماعت اسلامی کے 127 ارکان ہیں جبکہ دیگر جماعتوں کے ارکان بھی مکمل رابطہ میں ہیں، مسلم لیگ ن نے ہمارے موقف سے اتفاق کیا ہے اورتحریک انصاف، جے یو آئی، تحریک لبیک بھی ہمارے ساتھ ہے،تمام جماعتوں نے کراچی میں پیپلزپارٹی کو ہی مسائل کی جڑ قرار دیا ہے،سندھ حکومت نئے الیکشن تک موجودہ سیٹ اپ چاہتی ہے لیکن جماعت اسلامی اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں،2ماہ میں قابض میئرسے چھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے اس لیے عدم اعتماد ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں جاری ترقیاتی اسکیموں میں میگا کرپشن اور ناقص کارکردگی پر اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈرز جنید مکاتی، فضل احد، تیمور احمد، یونس سوہن ایڈوکیٹ، شاہد فرمان، طلعت یاسمین و دیگر بھی موجود تھے۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے مزید کہاکہ چند دن قبل بارش ہوئی، شہر کی ابتر صورتحال نے سندھ حکومت اور قابض میئر کو ایک بارپھر بے نقاب کردیا،38 ملی میٹر کی بارش نے کراچی کو ڈبودیالیکن پیپلزپارٹی کے وزراء بے شرمی کے ساتھ کراچی کا دبئی سے موازنہ کرتے ہیں،دبئی میں 300 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، اورزندگی کا نظام چلتا رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ بغیر ٹیندرز کے من پسند لوگوں کو ٹھیکے دیئے گئے ہیں جن میں نیشنل اسٹیڈیم روڈ کے 3 کروڑ کا اورایمپریس مارکیٹ کا 10 کروڑ کا ٹھیکہ شامل ہے، شارع فیصل پر بیوٹیفکیشن ورک کا کوئی ٹینڈر جاری ہی نہیں ہوا، رحیم بخش سومرو روڈ کو بغیر ٹینڈر بنایا گیا، چڑیا گھر میں 1 کروڑ کا پنچرہ بناکر 10 کروڑ کی ادائیگی کی گئی اورآڈٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنا 6 فیصد حصہ متعین کرکے آنکھوں بند کرلی ہیں۔کراچی واٹر کارپوریشن میئر کراچی کے ماتحت ہے، کے فور منصوبہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کردی گئی ہے، اس منصوبے کی اگمینٹیشن کے 90 کلومیٹر کا کام کرنا تھا، صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے کام کے بعد ورلڈ بینک نے کرپشن کی بنیاد پر کام رکوادیا۔انہوں نے کہاکہ سٹی کونسل کا ایوان بدمعاشی،جعلسازی اورآمرانہ طریقے سے چلایا جاتا ہے، رائے شماری نہیں کروائی جاتی اور ایوان کو مذاق بنادیا ہے

۔انہوں نے کہاکہ قابض میئر نے اپنے ہی چیئرمین کی آنکھیں میں دھول جھونک دی اورگزشتہ سال بلاول کے ہاتھوں نامکمل حب نہر کا افتتاح کرادیا،13 ارب روپے کا پروجیکٹ کرپشن کی نظر ہوگیا، 100 ملین گیلن پانی کی جعلی نوید سنائی تھی لیکن پہلے سے بھی کم پانی کراچی کو مل رہا ہے، کراچی میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا ادارہ مرتضی وہاب کے ماتحت ہے، اس کا 43 ارب کا بجٹ کہاں خرچ ہورہا ہے، نہ گھروں سے کچرا اٹھتا ہے، نہ لینڈ فل سائٹ تک پہنچتا ہے، سیوریج کا کام یوسیز اور ٹاون کی ذمہ داری نہیں لیکن ہم نے اربوں روپے سیوریج کے کاموں پر خرچ کئے۔انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کو پیپلزپارٹی جیسا بننے کی تجویز نہ دی جائے،پیپلزپارٹی بننے کے لئے گل پلازہ کو جلنے دینا ہوتا ہے، کراچی کو تباہ وبرباد اور مسائل کا گڑھ بنانا ہوتا ہے، کراچی اور حیدرآباد کو برباد کرنا ہوتا ہے، مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی کے ٹاؤنز کی کارکردگی سے خوف زدہ نہ ہوں پیپلزپارٹی کے ٹاؤنزکی حالت بہتر بنائیں،ان کے ایک ٹاون چیئرمین پر یوسی چیئرمین کے قتل کا مقدمہ ہے، ایک ٹاون چیئرمین کے خلاف کونسل اراکین نے عدم اعتماد جمع کرادی ہے، ایک اور ٹاون چیئرمین پر زمین کے قبضوں کے مقدمات ہیں

اپنا تبصرہ لکھیں