وفاق اور صوبے سے امید کیوں؟

کراچی کے دورے میں وزیر اعظم شہباز شریف کی کراچی آمد
گورنر سندھ نے بھی شیڈول میں شامل نہ کراکے وزیر اعظم کو احساس نہیں دلایا۔
دن دھاڑے طالبات کو ہراساں کرکے لوٹ مار اور لا قانونیت کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
گل پلازہ کے سانحہ کے متاثرین جاں بحق ہونے والوں کی تعزیت اور انکی دلجوئی نہ کرنے
کراچی کو نظر اندازکرنے اورگل پلازہ کے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کا عمل قرار
گورنر سندھ نے بھی شیڈول میں شامل نہ کراکے وزیر اعظم کو احساس نہیں دلایا۔
ہم وفاق اور صوبے سے کس طرح کی امید رکھیں۔ مرکزی کمیٹی ایم پی پی

کراچی……….. ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے دن دھاڑے طالبات کو ہراساں کرکے لوٹ مار اور لا قانونیت کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے کراچی کے دورے میں وزیر اعظم شہباز شریف کی کراچی آمد اور گل پلازہ کے سانحہ کے متاثرین جاں بحق ہونے والوں کی تعزیت اور انکی دلجوئی نہ کرنے کو کراچی کو نظر اندازکرنے اورگل پلازہ کے متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کا عمل قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے بھی شیڈول میں شامل نہ کراکے وزیر اعظم کو احساس نہیں دلایا۔ ہم وفاق اور صوبے سے کس طرح کی امید رکھیں۔

نفرت اور نورا کشتی بیان بازی تو کی جا رہی ہے لیکن کراچی کے عوام کی داد رسی نہیں کی جا رہی جو روز ٹریفک حادثات میں شہید کئے جا رہے ہیں۔ ہم اگر یہ کہیں کہ کراچی کے معاملے پرحکومتی روش پہلے سیاست بعد میں کچھ اور بن گئی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ فیلڈ مارشل کی کاوشوں کو حکوتیں بیڈ گورننس سے ناکام بناتی ہیں۔ کراچی کرچی کرچی ہے لیکن اسکو جوڑنے اور بنانے والا کوئی نہیں۔ کسی کو گورنری چاہئے کسی کو قوم پرستی کی سیاست اور کسی کو نفرت کی سیاست عوام کا کوئی خیر خواہ نہیں۔

کراچی میں تعمیراتی کام ترقی کے نام پر مزاق ہو رہا ہے۔ بلدیاتی قیادت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ اب ڈھکوسلے بازی کی جا رہی ہے کیونکہ ایک سال بچا ہے۔ خواب دکھائے جا رہے ہیں جو تین سال میں کام نہیں کرسکے وہ ایک سال میں کیا تیر مارلیں گے۔ تیر کا نشان پیٹ کر چلیں جائیں گے۔ عوام دوست دشمن کی تمیز کریں اب حقیقی اور نئے نمائندے ایوانوں میں جائیں جو شہر کی خدمت کریں۔ مرکزی کمیٹی نے فوری ترقیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ لاقانونیت کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں