سندھ ہائی کورٹ میں کراچی ماسٹر پلان کیس، ایم کیو ایم پاکستان کے حقائق پر سندھ حکومت مسلسل بے نقاب ہورہی ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
ملک میں رائج وڈیرہ شاہی جمہوریت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، سینئر رہنما ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر فاروق ستار
صرف 1200 منتخب نمائندے پورے ملک کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتے، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر بلدیاتی نظام ادھورا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
اٹھائیسویں(28 ویں) آئینی ترمیم کے ذریعے میئرز اور ٹاؤن ناظمین کو مالیاتی و انتظامی طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہوچکا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تضادات کو ختم کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دی جائے، سندھ حکومت جواب جمع کرانے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، ایڈووکیٹ طارق منصور
کراچی …… متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے ایڈووکیٹ طارق منصور اور دیگر وکلاء کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ میں بلدیاتی اختیارات کی منتقلی اور سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت وڈیرہ شاہی جمہوریت (Feudal Democracy) کا راج ہے جسے حقیقی شراکت دار جمہوریت (Participatory Democracy) میں بدلنا وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے واضح کیا کہ محض 1200 منتخب نمائندے ایوانوں میں بیٹھ کر کروڑوں عوام کی تقدیر کا فیصلہ نہیں کرسکتے بلکہ جب تک میئرز اور ٹاؤن ناظمین کو 28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مکمل مالیاتی اور انتظامی اختیارات منتقل نہیں کیے جاتے تب تک گلی محلوں کے مسائل حل ہونا ناممکن ہے،
ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان بلدیاتی اداروں کی خودمختاری کے لیے ہر فورم پر جدوجہد جاری رکھے گی کیونکہ بااختیار بلدیاتی نظام ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے، اس موقع پر ایڈووکیٹ طارق منصور نے عدالت کے باہر میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے حوالے سے جاری یہ قانونی جنگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور ہم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ کیس کی حساسیت اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لارجر بینچ یا فل بینچ تشکیل دی جائے تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل نکل سکے،
انہوں نے سندھ حکومت کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بارہا مہلت لینے کے باوجود تاحال اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرانے سے گریز کر رہی ہے جو عدالتی عمل میں تاخیر کی سوچی سمجھی کوشش ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ آرٹیکل اے 140کی روح کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کو ان کے آئینی اختیارات دیے جائیں تاکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کو روکا جاسکے،
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کراچی سمیت پورے سندھ کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور بلدیاتی اداروں کی بحالی کے لیے اپنی قانونی اور سیاسی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی لیگل ایڈ کمیٹی انچارج محمد جیوانی و اراکین، دیگر قانونی ماہرین اور حق پرست ارکین صوبائی اسمبلی سمیت مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران بھی موجود تھے