مطالبات سندھ کابینہ وفاق لے کر جائیں گے

کراچی سمیت صوبے بھر کی تاجر برادری کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم تجارتی مراکز کی جلدی بندش اور توانائی کی بچت کے پروگرامز پر عمل درآمد کے لئے وفاق سے بات کریں گے

تاجروں کے مطالبات کو ہم سندھ کابینہ اور وفاق تک لے کر جائیں گے البتہ تاجر برادری بھی حالیہ سنگین صورتحال کے مدنظر حکومتی اقدامات پر اس کا ساتھ دے

وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی اور وزیر صنعت و تجارت سندھ جام اکرام اللہ دھاریجو کا کمشنر ہاؤس کراچی میں تاجروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئےاظہار خیال

کراچی ………  وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی اور وزیر صنعت و تجارت سندھ جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا ہے کہ کراچی سمیت صوبے بھر کی تاجر برادری کی مشاورت کے ساتھ ہی ہم تجارتی مراکز کی جلدی بندش اور توانائی کی بچت کے پروگرامز پر عمل درآمد کے لئے وفاق سے بات کریں گے۔ موجودہ خطے کی صورتحال میں ایران کا ہمارے ساتھ مسئلہ الگ ہے لیکن ہماری افغانستان سے جنگ ابھی تک چل رہی ہے۔

تاجروں کے مطالبات کو ہم سندھ کابینہ اور وفاق تک لے کر جائیں گے البتہ تاجر برادری بھی حالیہ سنگین صورتحال کے مدنظر حکومتی اقدامات پر اس کا ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمشنر ہاؤس کراچی میں تاجروں کے ساتھ منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کمشنر کراچی و دیگر سرکاری اعلیٰ افسران کے علاوہ کراچی بھر کے تاجروں کی نمائندہ تنظیموں کے چییرمینز ، صدور و عہدیداران جن میں کراچی الیکٹرانک مارکیٹس ایسوسی ایشن کے رضوان عرفان، شیخ خالد نور، جمیل احمد پراچہ، حبیب شیخ ، حکیم شاہ، محمد احمد شمشی، عاصم گلفام، محمود حامد، جاوید عبداللہ، عبد الغنی اخوند، محمد ارشد صدر جیولری مارکیٹس ایسوسی ایشن ، ارشد قم قم، صابر بنگش، سمیت دیگر تاجر رہنما موجود تھے۔

اس موقع پر تاجر برادری نے وفاق کی جانب سے کاروباری مراکز کی جلدی بندش سمیت دیگر کے حوالے سے صوبائی وزراء کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور استدعا کی کہ سندھ حکومت وفاق سے اپنے اس فیصلے پر فوری نظر ثانی کرکے اس کو عید کے بعد تک موخر کرے۔ جس پر صوبائی وزیر سعید غنی نے تاجروں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ اس پر سندھ کابینہ میں بات کرکے وفاق کو تاجروں کے تحفظات سے آگاہ کرکے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کروائیں گے ۔

اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ اس تمام اقدامات کا مقصد جہاں ایران اور امریکہ کی جنگ کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کو پیٹرول کی بچت کرکے اور آئل سے بننے والی بجلی کو کم سے کم بنانے کے لئے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت موجودہ خطے کی صورتحال میں ایران کا ہمارے ساتھ مسئلہ الگ ہے

لیکن ہماری افغانستان سے جنگ ابھی تک چل رہی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے شہروں میں تحریک طالبان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات زیادہ ہے. وہ لوگ ایسی جگہ ڈھونڈتے ہے جہاں رش زیادہ ہو۔ سعید غنی نے کہا کہ بجلی بچانی ہے تاکہ پیٹرول سے بھی بجلی بنتی ہے تاکہ کم پیٹرول استعمال ہو بجلی بنانے میں استعمال ہو اور اس حوالے سے سندھ حکومت بھی صوبے کے مختلف سیکٹرز میں ورک فروم ہوم پر بات چل کررہی ہے۔

صوبائی وزیر جام اکرام اللہ دھاریجو نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے جو بات کی ہے کہ عید کے بعد تجارتی مراکز کو جلد بند کروایا جائے اس پر ہم اس وقت کابینہ کے دو ارکان موجود ہیں اور آپ کو یقین دہانی کرواتے ہیں کہ ہم سندھ کابینہ میں اس بات کو رکھیں گے البتہ ہماری آپ تمام مارکیٹوں کے تاجروں سے درخواست ہے کہ ریکویسٹ ہے کہ آپ مارکیٹوں میں بات کرے گے بجلی کم سے کم استعمال کی جائے

اور عید کے حوالے سے مارکیٹوں میں زیادہ روشنیوں کو مؤخر کیا جائے۔ اس موقع پر تاجر رہنماؤں نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ آپ وفاق سے کہے کہ پیٹرول کا متبادل سولر ہے، تو آپ درخواست کرے سولر پر ٹیکس کو ہٹایا جائے اور الیکٹرانک موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ پرموٹ کیا جائے۔

اس موقع پر تاجروں نے گزشتہ روز سندھ حکومت کی جانب سے خواتین میں ای بائیک کی فراہمی کی تقریب کو بھی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر کے تاجروں نے جس طرح کرونا میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا تھا اس بات بھی ہم حکومت کو اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں