سرخیوں سے آگے ڈہرکی:اکمل خان لغاری

سرخیوں سے آگے ڈہرکی سماجی ترقی پر ایک نئی سوچ
تحریر: سردار محمد اکمل خان لغاری

ڈہرکی کا ذکر اکثر خبروں میں صرف اس وقت آتا ہے جب کوئی بحران جنم لےچاہے وہ انفراسٹرکچر کی ناکامی ہو، عوامی احتجاج ہو یا انتظامی کمزوریاں۔ مگر ان وقتی خبروں سے ہٹ کر ڈہرکی ایک ایسا شہر ہے جہاں محنتی لوگ بستے ہیں، بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور ایک مضبوط سماجی رشتہ قائم ہے۔ ڈہرکی کو صرف سرخیوں کی نظر سے دیکھنا، یہاں کے روزمرہ حقائق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

پائیدار سماجی ترقی محض وقتی اعلانات یا قلیل المدتی اقدامات سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تسلسل، منصوبہ بندی اور اجتماعی ذمہ داری ضروری ہوتی ہے۔ ڈہرکی جیسے شہروں کو تعلیم، صحت، صفائی اور شہری شعور جیسے بنیادی شعبوں میں مسلسل توجہ درکار ہے—یہ وہ مسائل ہیں جو براہِ راست عوام کی زندگی کے معیار کو متاثر کرتے ہیں، مگر اکثر مستقل بحث کا حصہ نہیں بنتے۔

تعلیم ترقی کی بنیاد ہے۔ ڈہرکی سمیت چھوٹے شہروں میں معیاری تعلیم تک رسائی یکساں نہیں۔ اگرچہ اسکول موجود ہیں، لیکن عمارتوں کی حالت، تدریسی معیار اور طلبہ کی حاضری جیسے مسائل برقرار ہیں۔ ان مسائل کا حل وقتی اقدامات میں نہیں بلکہ طویل المدتی سرمایہ کاری، نگرانی اور مقامی شمولیت میں ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوتا ہے بلکہ شہری معاملات میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنتا ہے۔

صحت اور صفائی کے مسائل بھی انتہائی اہم ہیں۔ نکاسیٔ آب، صاف پانی کی فراہمی اور کچرے کا انتظام محض پالیسی کے موضوعات نہیں بلکہ روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ جب یہ نظام ناکام ہوتے ہیں تو اس کے اثرات فوراً سامنے آ جاتے ہیں۔ اکثر مسائل کی جڑ ذمہ داریوں کے تعین میں ابہام اور عملدرآمد کی کمی ہوتی ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور مقامی ضروریات کے مطابق مستقل رابطہ ضروری ہے۔
سماجی ترقی کا ایک اہم مگر نظرانداز پہلو شہری ذمہ داری ہے۔ ترقی صرف اوپر سے نافذ نہیں کی جا سکتی، بلکہ اس کے لیے عوام کی شمولیت بھی لازم ہے۔ صفائی، سرکاری املاک کی حفاظت اور باہمی احترام کے بارے میں آگاہی مشترکہ مقامات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب لوگ اپنے ماحول کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تو ترقی کے اقدامات زیادہ مؤثر اور دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

نوجوان طبقہ خواہش اور عمل کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈہرکی کے نوجوانوں میں جذبہ اور صلاحیت موجود ہے، مگر مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع محدود ہیں۔ تعلیم، ہنر مندی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے اس توانائی کو درست سمت دی جا سکتی ہے۔ نوجوانوں کی شمولیت کا مقصد محض احتجاج نہیں بلکہ تعمیری شرکت ہونی چاہیے، تاکہ شکایت کے بجائے خدمت کا جذبہ فروغ پائے۔

یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ ترقی ایک مسلسل عمل ہے، کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں۔ اعلانات اور منظوریوں کی اپنی اہمیت ہے، مگر اصل اثر عملدرآمد اور جوابدہی سے ہی ظاہر ہوتا ہے۔ جب وعدے پورے نہ ہوں تو عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ شفافیت، پیش رفت سے آگاہی اور حدود کی واضح وضاحت اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔
ڈہرکی کی کہانی مکمل طور پر بیان کی جانی چاہیےصرف مسائل نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کی ثابت قدمی بھی۔ مقامی آوازیں اگر ذمہ داری سے سنی جائیں تو ترجیحات درست سمت میں طے کی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے کام کی دستاویز سازی، مشکلات کا اعتراف اور تجربات سے سیکھنا ضروری ہے۔ خاموشی غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے، جبکہ سنجیدہ ابلاغ سمجھ بوجھ کو فروغ دیتا ہے۔

سرخیوں سے آگے بڑھنے کا مطلب ترقی کو طویل المدتی نظر سے دیکھنا ہے—ایسی نظر جو نمائش کے بجائے تسلسل کو اہمیت دے۔ حقیقی ترقی اکثر خاموش، تدریجی اور تعاون کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ تصادم کے ذریعے۔ ڈہرکی کا مستقبل اسی سوچ کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔
تعلیم، صحت، شہری ذمہ داری اور نوجوانوں کی شمولیت پر توجہ دے کر ڈہرکی جیسے شہر پائیدار ترقی کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے لیے عوام کا صبر اور قیادت کا عزم دونوں ضروری ہیں۔ جب یہ دونوں مل کر کام کریں تو ترقی صرف وعدہ نہیں رہتی بلکہ ایک مشترکہ سفر بن جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں