کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ)
کراچی میں جعلی ادویات بنانے والی فیکٹری پکڑی گئی عوامی صحت کو سنگین خطرہ
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈرپ) اس حوالے سے مؤثر اور مستقل کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟
کراچی…………….چیئرمین کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان، کوکب اقبال نے احسن آباد کراچی میں وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے کی جانب سے جعلی ادویات بنانے والی فیکٹری پر چھاپے کے دوران بڑی مقدار میں جعلی اور نیم تیار شدہ ادویات، مشینری اور معروف کمپنیوں کی پیکنگ برآمد ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
کوکب اقبال نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی تشویشناک اور مجرمانہ غفلت کا مظہر ہے۔ معروف برانڈز کی پیکنگ میں جعلی ادویات تیار کرکے مارکیٹ میں فروخت کرنا عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈرپ) اس حوالے سے مؤثر اور مستقل کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور میڈیکل اسٹورز کا باقاعدہ معائنہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ایسے غیر قانونی نیٹ ورکس کو بروقت کیوں نہیں روکا جاتا؟

کوکب اقبال نے مزید کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنی اور اپنے پیاروں کی صحت کا تحفظ کر سکیں، مگر افسوس کہ زیادہ قیمت ادا کرنے کے باوجود انہیں جعلی اور غیر معیاری ادویات کا خطرہ لاحق ہے۔ یہ سنگین انتظامی ناکامی ہے۔
کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ DRAP فوری طور پر ملک بھر میں سخت نگرانی کا نظام نافذ کرے، فارماسیوٹیکل یونٹس اور میڈیکل اسٹورز کے باقاعدہ اور اچانک معائنے یقینی بنائے، اور جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔
ہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے شفافیت، احتساب اور مؤثر قانون نافذ کیا جائے