سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرادار نے تمام منتشر منقسم رہنماؤں کو فی الحال متحد کردیا
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا سینئر مرکزی رہنماؤں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، فیصل سبزواری اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ مرکز بہادر آباد میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب
آئین سے بغاوت قبول نہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاق پر حملہ ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی ( تجزیاتی رپورٹ: سید محبوب احمد چشتی ) سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی ایک قرادار نے تمام منتشر منقسم رہنماؤں کو فی الحال متحد کردیا ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئےمحمود وایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ کہنا مشکل ہوگا کہ یہ ایک اسکرین کا اتحاد ہے چائے کی پیالی میں ایک طوفان ہے یا پھر زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئےواقعی کوئی سنجیدہ کوشش ہے پریس کانفرنس میں ایکبار پھر پیپلزپارٹی پرشدید تنقید کی گئی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا یہ کہنا کہ آئین سے بغاوت قبول نہیں کرینگے، سندھ اسمبلی کی قرارداد وفاق پر حملہ ہے فی الحال اہم نظرآنے والی یہ پریس کانفرنس وفاقی حکومت کس طرح سنجیدہ لیتی ہے یہ دیکھنا اہم ہو گا مسلم لیگ ن کی وفاقی حکومت اپنی اتحادی جماعت ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے ان اہم ترین تحفظات پر کس طرح کا ردعمل دیتی ہے یہ بھی اہم ہوگا ،چیئرمین خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ پیش کردہ قرارداد کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی توہین کی گئی ہے
ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے کب توہین عدالت کامقدمہ ہوگا یہ مستقبل کی یقینی اور بے یقنی سیاسی صورتحال پر چھوڑ نا بہتر ہوگا چیئرمین ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی کا یہ کہنا بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد غیر آئینی غیر اخلاقی غیر جمہوری اور پاکستان دشمن ہےایم کیوایم پاکستان کی بظاہرانتہائی اہم ترین پریس کانفرنس مستقبل کی سیاسی صورتحال پرکس طرح اثرانداز ہوگی اور عملی طور پر کتنی اہم ثابت ہوگی یہ ایم کیوایم پاکستان کی آئندہ کی حکمت عملی پرمنحصر ہوگا ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے مزید کہا پیپلز پارٹی کی سیاست کا آغاز ہی ادھر ہم ادھر تم سے ہوا تھا اور اسمبلی میں اس ہی سوچ کا اظہار ہوا یعنی اس سےیہ سمجھا جائے کہ پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہی ملک کے دو ٹکرے ہوئے

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنماؤں سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائم خانی، سید امین الحق، فیصل سبزواری اور مرکزی کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ مرکز بہادر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ وفاقِ پاکستان کے خلاف کھلا چیلنج ہے کیا کسی صوبے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آئینِ پاکستان سے متصادم قرارداد منظور کرے؟ اگر نہیں تو پھر یہ جرات کس خوف اور کس ایجنڈے کے تحت کی گئی؟ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے پیپلز پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ سترہ برس سے سندھ پر قابض ٹولہ اپنی بدترین حکمرانی کرپشن اور نااہلی کا حساب دینے سے بھاگ رہا ہے اسی لئے نفرت اور تقسیم کا شوشہ چھوڑا گیا ہے، پیپلز پارٹی کی سیاست کا آغاز ہی ادھر ہم ادھر تم سے ہوا تھا اور کل اسمبلی میں اسی سوچ کا برہنہ اظہار ہوا، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ ایم کیو ایم کا کوئی ایک مطالبہ بھی آئین و قانون سے باہر نہیں، ہم غلام نہیں مجبورِ وفا لوگ ہیں ہماری دھرتی ماں صرف اور صرف پاکستان ہے، انہوں نے کہا کہ 1971ء میں ملک کو توڑا گیا تمام صوبوں نے اردو کو قومی زبان مانا سوائے سندھ کے کیونکہ مقصد کچھ اور تھا جو اب کھل کر سامنے آچکا ہے،

چیئرمین ایم کیو ایم نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد دانستہ کم گنے گئے اس کے باوجود صوبے کی 37 فیصد آبادی کراچی میں ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج کی نگرانی میں شفاف مردم شماری کرائی جائے ایک ہی جھٹکے میں سندھ میں عددی اکثریت کا جعلی نقشہ بدل جائے گا، مستند شواہد کے مطابق کراچی کی آبادی چار کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے کراچی اب منی پاکستان نہیں پورا پاکستان ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے باور کرواتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے بنائے ہوئے آئین میں ہی نئے صوبوں کی گنجائش موجود ہے مگر آج اسی آئین کی روح کو روند کر اپنے قائدین سے انحراف کیا گیا اگر صوبے کا مطالبہ غداری ہے تو پھر لسانی بنیادوں پر اضلاع بنانا کیا حب الوطنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں کراچی تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں شامل تھا لیکن پیپلز پارٹی کے 17 سالہ اقتدار نے اسے دنیا کے بدترین شہروں کی فہرست میں دھکیل دیا، آرٹیکل 140-اے کا نفاذ صرف کراچی نہیں پورے پاکستان کی بقاء کا سوال ہے،
چیئرمین ایم کیو ایم نے وزیراعظم کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر عملدرآمد کروانا آپ کی آئینی ذمہ داری ہے آئینِ پاکستان ریفرنڈم کی بھی اجازت دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے ردی کی ٹوکری میں پھینکے جا رہے ہیں اور اس قرارداد کے ذریعے سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ہے ایم کیو ایم کے مطالبات نہیں مانتے تو نہ مانیں کم از کم آئین کے مطالبات پر ہی عمل کرلیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کو کراچی کے خلاف سازشوں کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک نشست کی لالچ نے ان سے ضمیر فروشی کروائی، تحریک انصاف پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہا کہ وہ اس معاملے پر پیپلز پارٹی کی ہمنوا بن کر آئین دشمنی میں شریک ہوئی،
چیئرمین ایم کیو ایم نے واضح اعلان کیا کہ ہمیں فسادات کا خوف مت دلاؤ یہ قرارداد غیر قانونی بھی ہے غیر اخلاقی بھی اور غیر جمہوری بھی, رمضان دعاؤں میں گزرے گا اس کے بعد آئین عوام اور پاکستان کے دفاع میں فیصلہ کن جدوجہد ہوگی ایک شفاف مردم شماری ہوئی تو صوبے کا مطالبہ کہیں اور سے اٹھے گا کراچی سے نہیں،
ایم کیوایم پاکستان کی اہم ترین پریس کانفرنس مسقتبل کے سیاسی منظرنامہ پر کوئی اہم فیصلہ کن راستہ اختیار کرتی ہے یا نہیں عید کے بعد بہت کچھ دکھانے کا اعلان چیئرمین ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی کرچکے ہیں اور یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ہمیں فسادات کا خوف مت دلاؤ ایم کیوایم پاکستان کی پریس کانفرنس میں ان تمام تحفظات کا کھل کراظہار کیا گیا جو اہلیان کراچی کی آواز بن سکتی ہے اس بار امیدکی جارہی ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کراچی کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرسکتی ہے اگر سیاسی نشیب وفراز میں مستقل مزاجی قائم رہتی ہے تو اس بار سندھ حکومت کو شدیدمشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے
وزیراعظم کو مخاطب کرکے ایم کیوایم پاکستان نے فی الحال اپنی حجت تمام کرلی ہے ان تمام صورتحال میں مستقبل قریب میں کچھ بہتری آسکتی ہے یا نہیں یہ مشکل سوال ہےپیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے حوالے سے اگر ایم کیوایم پاکستان کی سیاسی حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو وہ بیانات و تقاریر کی حدتک ضرور متاثرکن نظرآتا ہےدلیل بھی مضبوط موقف بھی تگڑا لیکن عوامی طاقت کا بھرپور مظاہرہ جو سندھ حکومت کو ہلا سکے سامنے نہیں آسکا ہے سیاسی حکمت عملی کاجائزہ لینے کی ایم کیوایم پاکستان کو شاید اس سے پہلے کھبی ضرورت نہیں پڑی ہوگی عوامی رابطہ مہم کا ہریوسی وٹاؤن سے آغاز کرنا ہی صورتحال میں بہتری لاسکتا ہے اور اسکے لیئے پہلے اتحاد کا ہونا ضروری ہے بصورت دیگر راوی چین ہی لکھ رہا ہے