ٹریفک جام مسئلہ شہریوں پر براہِ راست حملہ

کراچی میں ٹریفک جام شہری زندگی مفلوج، معیشت یرغمال، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی کا صورتحال پر تشویش کا اظہار
سڑکوں کی بندش نے قومی معیشت کی رفتار روک دی ہے، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی
تجاوزات اور ناقص ٹریفک مینجمنٹ نے شہریوں کو شدید ذہنی دباؤ اور جسمانی اذیت کا شکار کر رکھا ہے، حق پرست ارکانِ سندھ اسمبلی
ٹریفک جام صرف مسئلہ نہیں شہریوں پر براہِ راست حملہ ہے، کراچی کی نقل و حرکت بحال نہ ہوئی تو ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی
رمضان سے قبل ٹریفک ایمرجنسی پلان کا نفاذ ناگزیر ہے، حق پرست اراکین کا مطالبہ

کراچی۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے اراکینِ سندھ اسمبلی نے مرکز بہادر سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ کراچی میں روزانہ لگنے والے ٹریفک جام اب وقتی خلل نہیں بلکہ ایک منظم شہری بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے اسے شہری زندگی پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سڑکوں کی بندش ناقص ٹریفک مینجمنٹ اور بے ہنگم تجاوزات نے ملک کے سب سے بڑے شہر کو جام کر دیا ہے جس کے اثرات روزگار سے لے کر تعلیم اور صحت تک ہر شعبے میں محسوس کیئے جارہے ہیں، حق پرست اراکین کے مطابق شہر کی مرکزی شاہراؤں صنعتی علاقوں تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کے اطراف روزانہ گھنٹوں طویل ٹریفک جام معمول بن چکا ہے

ایمبولینسوں کی تاخیر طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں خلل مزدور کی اجرت کا ضیاع اور تاجروں کا بڑھتا ہوا نقصان اس بحران کے نمایاں مظاہر ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی سڑکیں بند ہوں تو قومی معیشت کی رفتار بھی تھم جاتی ہے، حق پرست اراکین صوبائی اسمبلی نے واضح کیا کہ غیر قانونی تجاوزات غیر منصوبہ بند کھدائیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں غیر قانونی پارکنگ ناکافی نفری اور غیر تربیت یافتہ ٹریفک عملہ بحران کی بنیادی وجوہات ہیں جبکہ حکومتی سطح پر محض بیانات اور فائلوں میں بننے والے منصوبے زمینی حقائق بدلنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں،

حق پرست اراکینِ سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز اور مستقل کارروائی اسمارٹ ٹریفک سگنلز نگرانی کیمروں اور ڈیجیٹل روٹ مینجمنٹ جیسے جدید نظام کا فوری نفاذ سمیت تمام تعمیراتی منصوبوں کے لیے واضح ٹائم لائن اور متبادل راستے لازم قرار دیئے جائیں، مزید یہ کہ ٹریفک پولیس کی تربیت نفری اور اختیارات میں اضافہ اسکولوں اور دفاتر کے اوقات میں ہم آہنگی پیدا کرکے رش کو کم کیا جائے، انہوں نے خبردار کیا کہ کراچی پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے اگر اس شہر کی نقل و حرکت بحال نہ کی گئی تو نہ صرف شہریوں کی زندگی مزید اجیرن ہوگی بلکہ قومی معیشت کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا، حق پرست اراکین نے صوبائی حکومت سے فوری طور پر رمضان ٹریفک ایمرجنسی پلان نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوگی

اپنا تبصرہ لکھیں