معصوم بچے کتوں کے رحم وکرم پر

معصوم بچے کتوں کے رحم وکرم پرسندھ ریبیز کنٹرول پروگرام کیاناکام ہورہاہے
رپورٹ : سید محبوب احمد چشتی

سندھ میں ریبیز کنٹرول پروگرام بری طرح ناکامی سے دوچار دکھائی دیتا ہے روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کتے کے کاٹنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں جس کیخلاف موثر حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے اسے معمول کی طرح ڈیل کیا جارہا ہے گزشتہ دنوں آوارہ کتے کے کاٹنے کی وجہ سے 17 سالہ لڑکی جانبحق ہوگئی تھی لیکن اس پر شہر میں کتوں سے بچاؤ کیلئے موثر مہم سر انجام دینے کے بجائے اس سے جان چھڑائی جارہی ہے

کراچی میں آوارہ کتوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے صبح کے اوقات میں اسکول وکالجز کے طالب علم آوارہ کتوں کے غول سے گزرتے ہیں اور اسی وجہ سے روزانہ کسی نہ کسی علاقے میں آوارہ کتوں کی رینج میں کوئی نہ کوئی آرہا ہے،آوارہ کتوں کے مارنے پر پابندی عائد ہے

جس کے مقابل کتوں کو پکڑنے کے حوالے سے اقدامات تین سے چار سال قبل ہوتے دکھائی دئیے لیکن اب یہ معاملہ بھی رک چکا ہے بلدیاتی اداروں کو کتوں کو مارنے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی بلدیاتی اداروں کے پاس مستند اسٹاف موجود ہے جو کتوں کو پکڑنے کی اہلیت رکھتا ہو لہذا اسوقت کراچی کے شہری بالخصوص معصوم بچے کتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دئیے گئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی کو بھنبھوڑ رہے ہیں.

وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ سے کراچی کے شہریوں نے گزارش کی ہے کہ وہ فوری طور پر سندھ ریبیز کنٹرول پروگرام کو متحرک کرنے کے ساتھ کراچی میں آوارہ کتوں کو پکڑنے کیلئے ٹرینڈ ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ شہر میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات کو کنٹرول کیا جاسکے

اپنا تبصرہ لکھیں