پاکستانی نظام حکومت اور کردار:عقیل اختر

پاکستانی نظام حکومت اور کردار

تحریر عقیل اختر

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ یہ سوال آج ہر اہلِ دانش اور ہر عام شہری کے ذہن پر ضرب لگا رہا ہے کہ آخر اس ملک کی معاشی تباہی، سیاسی انتشار، غربت اور پسماندگی کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کیا یہ خرابی خود نظام میں ہے یا اُن افراد میں جن کے ہاتھوں میں اس نظام کی باگ ڈور ہے؟ یہ سوال محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ ملک میں چینی طرزِ حکمرانی کی تقلید کی باتیں کی جا رہی ہیں، جبکہ آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت کو نوکر شاہی کی عیاشیوں اور بدعنوانیوں کا شکار قرار دیتا ہے، جبکہ سیاسی اشرافیہ عوام پر بوجھ ڈال کر خود مراعات کے پہاڑ کے نیچے پل رہی ہے، ایسے میں اس مسئلے کی علمی اور تاریخی تہوں تک جانا ضروری ہو جاتا ہے۔پاکستان اپنی 77 سالہ تاریخ میں کبھی سرمایہ دارانہ نظام سے امیدیں رکھتا رہا، کبھی سوشلزم کے زیرِ اثر پالیسیوں کا تجربہ کیا گیا،

کبھی ریاستی کنٹرول اور کبھی آزاد معیشت کے درمیان جھولتا رہا، لیکن ان میں سے کوئی بھی راستہ اس ملک کو معاشی اور سیاسی استحکام نہ دے سکا۔ ہر نظام کو یہاں آزمایا گیا لیکن ہر بار نتیجہ وہی نکلا — طاقتور مزید طاقتور، کمزور مزید کمزور، اور عوام کے مسائل جوں کے توں۔ یہ حقیقت اپنے اندر ایک بڑی نشان دہی رکھتی ہے کہ شاید نظام سے پہلے انسان کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے، اور شاید وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں نظام کو چلانے والے افراد میں دیانت، جوابدہی، شفافیت اور عوامی خدمت کا جذبہ ہوتا ہے۔پاکستان کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تین بڑے زاویوں کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے: ایک، پاکستان کے سیاسی و معاشی تجربات؛ دوسرا، چینی نظام کے حوالے سے اٹھنے والی بحث؛ اور تیسرے، اسلامی خلافت کا وہ سنہری ماڈل جو نہ صرف انصاف و مساوات پر قائم تھا بلکہ جس میں حکمران خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے۔ اگر ان تینوں حوالوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مسئلہ نظام کا نہیں، کردار کا ہے۔ دنیا کے بہترین نظام بھی نااہل اور بددیانت افراد کے ہاتھ میں ناکام ہو جاتے ہیں،

جبکہ سادہ ترین نظام بھی باصلاحیت، دیانتدار اور جوابدہ قیادت کے ہاتھوں ترقی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔پاکستان کی موجودہ معیشت کے بارے میں آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ ایک نہایت تلخ اور سخت تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تباہ حال معیشت کی سب سے بڑی وجہ نوکر شاہی کی شاہانہ مراعات، سرکاری اخراجات میں حد سے زیادہ اضافہ، اختیارات کا بے جا استعمال، کرپشن، اقرباپروری، اور سرکاری افسران کا وہ طرزِ زندگی ہے جو غریب عوام کے ٹیکسوں پر قائم ہے۔ رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ پالیسیاں نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو پالیسیوں کو نافذ کرتے ہیں۔ ملک میں بجٹ عوام کے لیے نہیں بلکہ چند طاقتور طبقات کی زندگیوں کو سہارا دینے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں ہر شہر میں بچے اسکول چھوڑ کر مزدوری کر رہے ہوں، جہاں لوگ علاج نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال کے دروازوں پر دم توڑتے ہوں، جہاں خاندان غربت کے باعث دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہوں، وہاں سرکاری اداروں کی عیاشیاں ایک قومی جرم سے کم نہیں۔ایسے میں کچھ حلقے یہ رائے پیش کرتے ہیں کہ پاکستان کو چین کے نظام سے سیکھنا چاہیے۔ چین کا نظام بظاہر ایک سخت گیر مرکزیت رکھتا ہے جس میں حکومت کے سربراہ کے پاس وسیع اختیارات ہوتے ہیں۔

یہ نظام کمیونسٹ نظریات پر قائم ہے، مگر اس کے ساتھ ہی معاشی میدان میں سرمایہ دارانہ مقابلے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ چین کی ترقی کی بنیاد مضبوط فیصلہ سازی، سخت احتساب، طویل المدت پالیسیوں میں تسلسل، قومی مفاد پر غیر متزلزل عمل، اور اہلیت کی بنیاد پر تقرری کے اصول ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جنہوں نے چین کو ایک عالمی معاشی قوت بنا دیا۔ بعض پاکستانی حلقے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسا نظام ہونا چاہیے جو تیز رفتار فیصلے کر سکے، نوکر شاہی کی رکاوٹوں کو توڑ سکے، اور طاقتور طبقے کو قانون کے تابع کرے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چینی نظام پاکستانی سیاست، معاشرت، مذہبی ساخت اور سماجی نفسیات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟ کیا پاکستان میں وہی ڈسپلن، جوابدہی، اور سخت احتساب ممکن ہے جو چین میں ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر پاکستان میں چینی نظام جیسا کوئی ڈھانچہ لایا بھی جائے تو کیا اسی کرپٹ اشرافیہ اور نااہل نوکر شاہی کے ہاتھ میں وہ نظام بھی تباہ نہ ہو جائے گا۔یہاں تاریخ ہمیں ایک بڑی حقیقت سکھاتی ہے کہ نظام چاہے کوئی بھی ہو — اصل بنیاد کردار کی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں اسلامی تاریخ کا سنہرا دور ہمارے سامنے آتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا ماڈل دنیا کے کسی بھی نظام سے زیادہ شفاف، زیادہ انسان دوست، اور زیادہ جوابدہی پر مبنی تھا۔ خلافت کا نظام کسی بادشاہت پر قائم نہ تھا،

نہ اس میں حکمران کسی موروثی حق کی بنیاد پر مسند نشین ہوتے تھے۔ خلافت اس اصول پر قائم تھی کہ حکمران عوام کا خادم ہے، حاکم نہیں۔ حکمرانی ایک ذمہ داری ہے، مراعت نہیں۔ امیرالمومنین کا کردار رعایا کے سامنے جوابدہی کا ہے، برتری کا نہیں۔حضرت ابوبکر صدیقؓ کی مثال اس سلسلے میں سب سے روشن اور بے مثال ہے۔ آپؓ دنیا کی سب سے بڑی ذمہ داری مسلمانوں کی امارت سنبھالتے ہوے تھے۔، مگر آپؓ کی سادگی، عاجزی اور عوام کے سامنے جوابدہی کا معیار ایسا تھا کہ تاریخ اس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔ آپؓ نے اپنی خلافت کے آغاز میں فرمایا تھا: “اگر میں درست کام کروں تو میری معاونت کرنا، اور اگر میں غلطی کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔ تم میں سب سے کمزور میرے نزدیک سب سے مضبوط ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق اسے دلوا دوں، اور تم میں سب سے طاقتور میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے حق لے کر کمزور کو دوں۔” یہ وہ تصورِ حکمرانی ہے جو آج کی دنیا میں ناپید ہو چکا ہے۔حضرت ابوبکرؓ نے حکمران ہوتے ہوئے بھی اپنے ذاتی اخراجات کے لیے بیت المال پر بوجھ ڈالنے سے انکار کیا۔ ایک عام شخص نے آپؓ سے سوال کیا کہ آپؓ نے کپڑے کا یہ دو سراٹکڑا کہاں سے لیاتو آپؓ نے اسی لمحے جواب دیا، اس لیے کہ حکمران کا حق نہیں کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہی سے بچ سکے۔ یہ وہ مثال ہے جس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام کسی مخصوص ڈھانچے کا نام نہیں بلکہ کردار، نیت، ایمانداری اور خوفِ خدا کے اجتماعی امتزاج کا نام ہے۔ اسی لیے خلافتِ راشدہ کے دور میں نہ غربت نے سر اٹھایا، نہ ناانصافی نے قدم جمائے، نہ حکمران ذاتی مفاد میں قوم کا نقصان کر سکے

، اور نہ ہی کسی طاقتور طبقے کی مراعات نے عوام کا حق کھا لیا۔یہاں ایک بنیادی نتیجہ سامنے آتا ہے: نظام تبھی کامیاب ہوتا ہے جب اسے چلانے والے افراد شفاف، دیانتدار اور جوابدہ ہوں۔ آج پاکستان کی سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ ادارے طاقتوروں کے سامنے بے بس ہیں، احتساب انفرادی دشمنی کی بنیاد پر ہوتا ہے، قومی مفاد ذاتی مفاد کی قربان گاہ پر چڑھا دیا جاتا ہے، اور حکمران خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھنے کے بجائے خود کو حاکم تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی معیشت کمزور، سیاست بدنظر، اور عوام مایوسی کا شکار ہیں۔اگر پاکستان میں حضرت ابوبکرؓ جیسے حکمرانوں کا تصور زندہ ہو جائے — یعنی حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوں، بیت المال کو اپنی جیب نہ سمجھیں، فیصلہ سازی میں عدل قائم کریں، طاقتور اور کمزور سب کو برابر سمجھیں، اور ریاست کا سرمایہ عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہو — تو موجودہ جمہوری نظام بھی پاکستان کو دنیا کی بہترین ریاست بنا سکتا ہے۔

اور اگر موجودہ کردار اور اخلاقی گراوٹ برقرار رہے تو چین کا نظام ہو یا مغربی جمہوریت، کوئی بھی ڈھانچہ پاکستان کو ترقی نہیں دے سکتا۔پاکستان کی غربت، پسماندگی اور تباہی کی اصل ذمہ داری نظام پر نہیں بلکہ اُن لوگوں پر ہے جن کے ہاتھ میں نظام کی چابیاں ہیں۔ جب تک کردار نہیں بدلے گا، نیتیں درست نہیں ہوں گی، اور احتساب بے رحم نہیں ہو گا، تب تک پاکستان میں نہ چین کا ماڈل کامیاب ہو گا، نہ مغرب کا، اور نہ ہی کوئی داخلی اصلاح۔ قوموں کی ترقی کا راز ان کے نظام میں نہیں بلکہ ان کی قیادت کے کردار اور عوام کی جوابدہی میں ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا دور ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ حکمران اگر انسانیت، عدل، تقویٰ اور سادگی کو اپنا لیں تو زمین پر بھی وہی نظام قائم ہو سکتا ہے جو آسمانی اصولوں کے قریب ہوتا ہے۔لہٰذا پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ اسے کون سا نظام چاہیے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے کیسا کردار چاہیے۔ اگر کردار مضبوط ہو، نیت پاک ہو، اور انصاف سب کے لیے برابر ہو تو پاکستان موجودہ نظام میں بھی ترقی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کردار کمزور رہے تو دنیا کے بہترین نظام بھی پاکستان کو تباہی سے نہیں بچا سکتے

اپنا تبصرہ لکھیں