پاکستان کے اصل محسن تحریر :عقیل اختر

پاکستان کے اصل محسن
تحریر عقیل اختر

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ وہ لوگ سنبھالتے رہے جنہوں نے اس سے وفا کی، نہ کہ وہ جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا

پاکستان کی تاریخ جب بھی دیکھی جائے تو اس کے ورق خون، قربانی، ایثار اور ہجرت سے رنگین نظر آتے ہیں۔ یہ وطن کاغذی حدبندیوں سے زیادہ ایک ایمان، ایک نظریہ اور ایک خواب کی تعبیر تھا۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس سرزمین پر آئے، وہ محض پناہ لینے نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست کے ستون بننے آئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خواب دیکھا، اس کی تعبیر کے لیے خون دیا، اور پھر اپنی قابلیت، علم اور ایمان سے اس نئے ملک کو زندگی بخشی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہی طبقہ جو کبھی اس ملک کے قیام کا مخالف تھا، اقتدار اور دولت کا مالک بن بیٹھا، اور جن لوگوں نے اسے بنایا، وہ بتدریج دیوار کے پیچھے دھکیل دیے گئے۔

تاریخ کا یہ المیہ آج بھی پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود پر سوالیہ نشان ہے۔اگر ہم پاکستان کی فکری جڑوں کی طرف جائیں تو سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ اس داستان کا پہلا روشن باب ہے۔ سر سید نے برصغیر کے مسلمانوں کو جدید تعلیم، خودداری اور قومی شعور دیا۔ اگر ان کی تعلیمی تحریک نہ ہوتی تو مسلمانوں میں سیاسی بیداری کبھی پیدا نہ ہوتی۔ ان کے شاگردوں اور ان کے فکری وارثوں نے آگے چل کر مسلم لیگ اور قیامِ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ یہی وہ طبقہ تھا جو تعلیم یافتہ، باشعور، جدید فکر اور اسلامی نظریے کا حامل تھا۔ ان لوگوں نے ہجرت کے بعد پاکستان کی انتظامیہ، تعلیم، صنعت، صحافت اور سائنس کو پروان چڑھایا۔ مگر ان کے مقابل وہ جاگیردار طبقہ تھا جو انگریز کے وفادار تھے، جنہوں نے تقسیم سے پہلے ہی نوکریوں، جاگیروں اور خطابات کے ذریعے اپنا مفاد محفوظ کر رکھا تھا۔ یہی طبقہ بعد میں پاکستان میں اقتدار پر قابض ہوا۔قائداعظم محمد علی جناح کے بعد سب سے بڑی قربانی دینے والا شخص لیاقت علی خان تھا۔ وہ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے، ان کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ خدمت تھا۔ لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے دس برسوں کا نقشہ بنایا،

آئین کے خدوخال وضع کیے، معیشت کا پہلا بجٹ پیش کیا، مگر انہیں بھی اسی طبقے نے راستے سے ہٹا دیا جو پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتا تھا۔ راولپنڈی کے ایک جلسے میں ان کی شہادت صرف ایک شخص کا قتل نہیں بلکہ ایک نظریے کی موت تھی — وہ نظریہ جو ایمان اور خدمت کے جذبے سے جڑا تھا۔ ان کے بعد پاکستان رفتہ رفتہ انہی ہاتھوں میں چلا گیا جن کے لیے ریاست ایک کاروبار تھی اسی دور میں حسین شہید سہروردی جیسے سیاسی رہنما بھی سامنے آئے جو بنگال کے بانی رہنماؤں میں سے تھے۔ وہ بھی مہاجر پس منظر رکھتے تھے اور ایک نظریاتی سیاست کے داعی تھے۔ مگر ان کی شفافیت اور عوامی سیاست کو برداشت نہ کیا گیا۔ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے پر جاگیرداروں اور بیوروکریسی کا قبضہ ہو چکا تھا، اور ہر وہ شخص جو اصول اور نظریے کی بات کرتا، اسے حاشیے پر ڈال دیا جاتا۔ سہروردی کو سیاسی جلاوطنی اور بدنامی کے سوا کچھ نہ ملا، حالانکہ وہ انہی چند لوگوں میں سے تھے جو پاکستان کو جدید جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔وقت گزرتا گیا، اور پاکستان کا وہ طبقہ جو ہجرت کر کے آیا تھا —

جن میں علی گڑھ، دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد اور بنگال کے تعلیم یافتہ لوگ شامل تھے — ان کی اگلی نسلیں بھی اپنے والدین کی طرح دیانت اور محنت کے ساتھ ملک کی خدمت کرتی رہیں۔ انہی میں سے سائنسدان، دانشور، استاد اور محقق نکلے جنہوں نے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام، جنہوں نے نوبیل انعام حاصل کیا، اس ملک کے تعلیمی وقار کی علامت تھے۔ مگر ان کے علمی کارناموں کی بجائے مذہبی اور سیاسی تعصبات کو اہمیت دی گئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، ان پر الزامات لگائے گئے، ان کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند، جنہوں نے سائنسی خودکفالت کی بات کی، ان کے منصوبے سیاست کی نذر ہو گئے۔ یہ وہ سب لوگ تھے جو اقتدار نہیں چاہتے تھے، بلکہ پاکستان کو مضبوط اور خودمختار دیکھنا چاہتے تھے۔ مگر اس ملک کے طاقتور طبقے کے لیے علم، خدمت یا قربانی کی کوئی قیمت نہیں، یہاں صرف وفاداریوں کی قیمت لگتی ہے۔جنرل محمد ضیاء الحق کا دور اگرچہ متنازعہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی ایک مہاجر پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دور میں اسلامائزیشن کی مہم نے مذہب کو ریاستی طاقت کا حصہ بنایا، مگر ساتھ ہی اقتدار پر فوجی اثرات کو بھی مضبوط کیا۔ ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف آئے — ایک اور ہجرت زدہ پس منظر رکھنے والے شخص، جنہوں نے پاکستان کو عالمی دباؤ کے دور میں سنبھالا۔ انہوں نے معیشت میں بہتری لانے کی کوشش کی، میڈیا کو آزادی دی، اور اعتدال پسند پاکستان کا تصور پیش کیا، مگر سیاسی طاقت کے کھیل میں وہ بھی تنقید کی زد میں آئے۔ مشرف کی غلطیاں اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ وہ بھی اس طبقے سے تھے جس نے پاکستان کو سنجیدگی سے مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ مگر جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو ان کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو اس ملک کے ہر مخلص شخص کے ساتھ ہوتا ہے — تنقید، کردار کشی، اور فراموشی۔موجودہ دور میں عمران خان کا معاملہ بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔

اگرچہ وہ خود ہجرت کرنے والے طبقے سے نہیں تھے، مگر ان کی سیاست میں وہی جذبہ جھلکتا ہے جو قیامِ پاکستان کے مہاجرین میں تھا — یعنی نظام کی تبدیلی، کرپشن سے پاک ریاست، اور انصاف پر مبنی معاشرہ۔ مگر جب انہوں نے اقتدار کے مراکز کو چیلنج کیا تو وہی طاقتور طبقہ ان کے خلاف ہو گیا جو ہمیشہ سے مفاد پرست رہا ہے۔ عمران خان کی مخالفت صرف ایک سیاستدان کی نہیں بلکہ ایک نظریے کی مخالفت ہے — وہ نظریہ جو کہتا ہے کہ پاکستان کسی خاندان، جاگیردار یا مافیا کی جاگیر نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست ہے۔یہی پاکستان کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ اس ملک کی بنیاد وفاداری، خدمت، تعلیم اور قربانی پر رکھی گئی، مگر اس کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہی جو ہمیشہ طاقت کے ساتھ جڑے رہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو طبقہ مہاجرین اور تعلیم یافتہ مسلمانوں کا نمائندہ تھا، وہ دھیرے دھیرے بے اختیار ہو گیا۔ ان کی جگہ جاگیردار، سرمایہ دار، اور اقتدار کے پجاری آ گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کی ترقی رک گئی، ادارے زوال کا شکار ہوئے، اور ملک کا خواب محض اقتدار کی دوڑ میں کھو گیا۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ پاکستان کو ہمیشہ وہ لوگ سنبھالتے رہے جنہوں نے اس سے وفا کی، نہ کہ وہ جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ چاہے وہ سر سید ہوں، لیاقت علی خان، سہروردی، عبدالسلام، عبدالقدیر خان، یا ثمر مبارک مند — سب نے پاکستان کو کچھ دیا، مگر بدلے میں الزام، تنقید اور بے اعتنائی ملی۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو کبھی اس ملک کے مخالف تھے، آج بھی اقتدار میں ہیں،

دولت کے وارث ہیں، اور قوم کے فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ وہ تاریخی المیہ ہے جسے آنے والی نسلوں کے سامنے بیان کرنا ضروری ہے۔ تاکہ وہ جان سکیں کہ وفاداری اور سچائی اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ تھا — اور یہی سرمایہ ہم نے ضائع کر دیا۔آج کے نوجوان کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی اصل طاقت مہاجرین، محب وطن علم دوست طبقہ، اور سچ بولنے والے رہنما تھے۔ وہ لوگ جو اصولوں پر ڈٹے رہے، جنہوں نے اپنے خواب بیچے نہیں۔ یہی لوگ پاکستان کے اصل وارث ہیں، چاہے انہیں تاریخ نے بھلا دیا ہو۔ اور یہی پیغام آج بھی زندہ ہے کہ وطن کی خدمت اقتدار سے نہیں، قربانی سے ہوتی ہے۔ جنہوں نے ہجرت کی، وہ پاکستان کے بانی ہیں، اور جنہوں نے ان کی قربانیوں پر اپنی سلطنتیں بنائیں، وہ تاریخ کے مجرم ہیں۔ مگر سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے — اور ایک دن یہی سچ آنے والی نسلوں کو بتائے گا کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں، یہ ان لوگوں کا ملک ہے جنہوں نے ایمان کے نام پر سب کچھ قربان کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں